بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن، ابراہیم رضائی نے ایران کے نیوز چینل کے پروگرام "گفتگوی ویژہ خبری" (خصوصی اخباری گفتگو) کے دوران خطے کی صورت حال اور ایران کے جوہری پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 40 روز جنگ کا ایک نتیجہ یہ رہا کہ ہم نے اپنی قومی سلامتی کے مسئلے میں ثابت کرکے دکھایا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے مسئلے میں تکلفات سے کام نہیں لیتا۔
رکن قومی سلامتی کمیشن کے انٹرویو کا پہلا حصہ؛ اہم نکات:
1۔ NPT سے خروج کے بلز
• کم از کم 10 بلوں پر دستخط ہوئے ہیں؛ اکثر نمائندے ہم آہنگ ہیں اور یہ بل ووٹنگ کے لئے ایوان میں پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔
2۔ جنگ کے بعد سیکورٹی ڈاکٹرائن میں تبدیلی
• 40 روزہ جنگ کا سبق یہ ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں کسی کے ساتھ تکلف نہیں کرتا؛ ہم نے ثابت کیا کہ دشمن کو کہیں بھی (کردستان، عمان، منامہ، دوحہ میں) نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
• 40 روزہ جنگ کے نقصانات: رہبر کی شہادت، بچوں کی شہادت، ملک پر حملہ۔
3۔ جوہری ہتھیار کی حمایت کا عوامی رجحان
• جنگ سے قبل ایک مغربی سفیر نے اپنے سروے کے حوالے سے بتایا کہ 70 فیصد ایرانی عوام ہتھیار بنانے کے حق میں ہیں۔
• IAEA کے ساتھ بے مثال تعاون (اور 70 فیصد inspections ایران میں ہونے) کے باوجود ایران کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔
4۔ ایٹمی معاہدے کا تجربہ اور مغربی فریم ورک سے عبور کی ضرورت
• ایران نے ایٹمی معاہدے (JCPOA) پر عمل کیا، لیکن نتیجہ: ٹرمپ کا انخلا اور پھر ایران پر حملہ۔
• امام شہید خامنہ ایؒ کا قول کہ 'دشمن ایران کو نگلنا چاہتے ہیں اور جوہری پروگرام بہانہ ہے'؛ ٹرمپ نے 40 روزہ جنگ کے آغاز میں اعلان کیا کہ وہ ایران کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔
5۔ یورینیم افزودگی 90 فیصد تک بڑھانے کی ضرورت
• جوہری صلاحیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے؛ افزودگی کی سطح 90 فیصد تک لے جانا چاہئے تاکہ اگر ملک نے فیصلہ کیا تو جوہری ایران سے فاصلہ کم سے کم ہو۔
• جوہری صنعت طاقت کا مؤثر جزو ہے؛ دشمن جان بوجھ کر اسی کو نشانہ بنا رہا ہے۔
• ایران کی طاقت، مذاکرات کی میز، پر دشمن کے حوالے نہیں کی جائے گی۔
6۔ جوہری صلاحیت کا پرامن استعمال
• 72 طبی مصنوعات 230 ہسپتالوں کے لئے تیار کی جارہی ہیں؛ 10 کلینکس جوہری ٹیکنالوجی سے کام کر رہے ہیں۔
• ملک کے ساتویں ترقیاتی منصوبے میں 20,000 میگاواٹ جوہری بجلی کا ہدف ہے جبکہ بوشہر میں فی الحال صرف 1,000 میگاواٹ بجلی تیار کی جا رہی ہے۔
7۔ دشمن کا اعتراف
• دشمن خود مانتا ہے کہ اگر ایران جوہری ہو چکا ہوتا تو اس پر حملہ نہ ہوتا؛ اسی لئے وہ ہر طریقے سے اس صلاحیت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ